16 جون 2010 - 19:30

اس دن بیٹے تیار ہو کر جب امام بارگاہ جانے لگے تو انہوں نے کفن پہنے ہوئے تھے۔ جن پر لکھا ہوا تھا کہ "عزاداری یا شہادت"

خیمہ عباس نامی بستی کا شمار اہل تشیع افراد کی پرانی بستیوں میں ہوتا ہے۔امام حسین  اور کربلا کے شہداء کے چہلم کے روز یہ بستی اس وقت غم میں ڈوب گئی۔نرسری بم کے دھماکے میں میرے دو بیٹے شہید ہوئے۔ دونوں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نوکری بھی کرتے تھے جس سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔یہ باتیں سعود آباد ملیر کے ایچ ایریا میں واقع خیمہ عباس نامی بستی کے رہائشی زاہد علی کی ہیں۔ ۔خیمہ عباس نامی بستی کا شمار اہل تشیع افراد کی پرانی بستیوں میں ہوتا ہے۔ امام حسین  (ع) اور کربلا کے شہداء کے چہلم کے روز یہ بستی اس وقت غم میں ڈوب گئی جب یہاں کے ١٣ افراد نرسری بم دھماکے میں شہید اور ٥٠ زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کی اطلاع جب شہداء کے گھروں میں پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ خواتین دھاڑیں مار کر رونے لگیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اتوار کو سوئم کے موقع پر بھی شہید اور زخمی ہو نے والے افراد کے اہل خانہ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ نرسری پل پر بم دھماکے میں شہید ہو نے والے محمد حسنین اور اس کے چھوٹے بھائی محمد حسن عرف بابر کے والد زاہد علی نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے جن میں سے بڑا بیٹا ٢١ سالہ حسن بابر نوکری کے ساتھ مزید تعلیم بھی حاصل کر رہا تھا جب کہ ١٩ سالہ محمد حسنین نے بی کام پارٹ ون میں ابھی داخلہ لیا تھا اور چہلم سے ایک روز قبل داخلہ فارم جمع کروا کے آیا تھا۔ ان کے دونوں بیٹے پارٹ ٹائم جاب کرتے تھے جبکہ وہ خود پرنٹنگ پریس میں کام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دونوں بھائی مذہبی تقریبات میں ضرور جاتے تھے۔ سانحۂ یوم عاشور پر بھی ان کی گلی کا رہائشی اقبال نامی شخص شہید اور تین افراد زخمی ہوئے تھے اسی لئے چہلم کے لئے ان سے کہا گیا تھا کہ شہادت کی سعادت کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو کر جانا۔زاہد علی نے کہا کہ یہ واردات دہشت گردی بھی ہو سکتی ہے۔ کافی لوگ اس طرح کی واردات کے لئے پہلے سے ہی تیار تھے ، حتیٰ کہ آئی۔ایس۔ او  والوں نے تو کفن بھی تقسیم کر دیئے تھے کہ چہلم کی مجلس اور مرکزی جلوس میں اس کو پہن کر جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چہلم کے سلسلے میں ان کے محلے میں واقع امام بارگاہ و مسجد میں حسین سفارت خانے میں پہلے مجلس ہوتی ہے۔ نماز ظہرین ادا کر کے پھر نوحہ خوانی کے لئے مر کزی جلوس روانہ ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ علاقے کے لوگوں نے دو بسیں کرائے پر حاصل کی تھیں۔ ایک بس میں مرد اور بچے تھے جبکہ دوسری بس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ چہلم والے دن ان کے بیٹے تیار ہو کر جب امام بارگاہ جانے لگے تو انہوں نے کفن پہنے ہوئے تھے۔ جن پر لکھا ہوا تھا کہ                                                           عزاداری یا شہادت تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ تم نے پڑھا بھی ہے کہ اس کفن پر کیا لکھا ہے، تو انہوں نے کہا کہ شاید ہمارے نصیب میں بھی شہادت ہو، اس لئے تیاری ہوکر جا رہے ہیں۔ وہ والدہ اور اپنی بہن کو خدا حافظ کہہ کر اپنے علاقے کی امام بارگاہ میں چلے گئے جبکہ وہ خود ایک گاڑی میں مرکزی جلوس میں شرکت کرنے کے لئے بچوں سے پہلے نمائش چورنگی آگئے تاہم جب انہیں مر کزی جلوس میں موجودگی کے وقت اطلاع ملی کہ نرسری کے قریب ایک بس میں بم دھماکہ ہوا ہے اور اس میں سوار عزادار ملیر سعودآباد سے آرہے تھے، تو وہ جلوس چھوڑ کر پلٹے انہیں ٹرانسپورٹ نہیں ملی جس کے سبب وہ پیدل ہی مزار قائد سے شاہراہ قائد پر چلنے لگے اس دوران ان کے دل میں خوف تھا کہ اس بس میں ان کے دونوں بچے نہ ہوں اور ا س وقت وہ گھر والوں سے بھی نہیں پوچھ سکتے تھے پریشانی کے عالم میں جب وہ طارق روڈ اللہ والی چورنگی پہنچے تو ان کے قریب سے ایک ایمبولینس گزری۔ انہوں نے ایمبولینس کے اندر اسٹریچر پر لیٹے شخص کو پہچان لیا کہ وہ قیصر عباس ہے جو ان کا پڑوسی تھا اس کے ہاتھ اور چہرے پر خون نظر آیا جب کہ اس کے قریب کسی شخص کی لاش پڑی تھی، یہ دیکھ کر وہ فوری طور پر وہاں سے گزرنے والی ایک بس پر سوار ہو گیا کہ اس کو شاہراہ فیصل پر اتار دے۔ متاثرہ بس کا جائزہ لینے کے بعد جب وہ جناح اسپتال پہنچے تو شعبہ ایمرجنسی میں انہیں اپنے بعض رشتے دار نظر آئے۔ان سے معلوم ہوا کہ ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسنین بھی متاثرہ بس میں تھے۔ ایک شخص نے مشورہ دیا کہ پہلے زخمیوں میں اپنے بچوں کو تلاش کرے۔ تاہم جب زخمیوں میں نظر نہ آئے تو وہ لاشوں کی طرف گئے جہاں انہیں اپنے دونوں بیٹے خون میں لت پت نظر آئے۔ رشتہ داروں نے بتایا کہ دونوں بھائی بس کی چھت پر اپنے دوستوں دوسرے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ دھماکے کے نتیجے میں سڑک پر گر گئے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ صدمے سے نڈھال زاہد علی کا کہنا تھا کہ جب ان کے سامنے ان کے بڑے بیٹے کی میت اسپتال سے ایمبولینس میں لوگ لے کر جانے لگے تو انہوں نے چیخ کر کہا تھا کہ میرے بیٹے کو کہاں لے کر جا رہے ہو تو انہوں نے کہا کہ اہل تشیع کی لاشوں کو طارق روڈ پر واقع امام بارگاہ محفل مرتضیٰ لے کر جا رہے ہیں جہاں ان کو غسل و کفن دیا جائے گا۔ جس کی بناء پر وہ بھی ایمبولینس کے ہمراہ امام بارگاہ چلے گئے اور وہاں جا کر کہا کہ دوسرے بیٹے کو بھی لے آ‎ؤ۔ رات کو میتوں کو غسل و کفن دے کر سعود آباد برف خانے میں پہنچا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بیٹوں کی ماڈل کالونی قبرستان میں تدفین کی گئی تاہم اب جب بھی وہ گھر جاتے ہیں تو بیٹی پوچھتی ہے کہ بابا میرے  بھائی کہاں ہیں؟ اس پر میں اس سے کہتا ہوں کہ تمہارے بھائیوں کہ ان کی خواہش پر شہادت مل گئی، یہ کہہ کر زاہد علی زارو قطار رونے لگے۔اتوار کو خیمہ عباس نامی بستی میں شہداء کا سوئم ہو رہا تھا۔ بعض گھروں سے خواتین کے رونے کی آوازیں آرہیں تھیں۔ ایک گھر کے سامنے ٥٥ سالہ اشفاق حسین مو جود تھے جن کا بیٹا اور دو بھتیجے اس واقعے میں شہید ہو گئے تھے جب کہ ایک بیٹا شدید زخمی حالت میں آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اشفاق حسین کا کہنا تھا کہ ٤٠ سال پہلے انہوں نے خیمہ عباس بستی میں حسینی عزاداری کی بنیاد ڈالی تھی۔جس میں علاقے کے لوگ ہی شامل تھے وہ خودکے ایس سی میں کنٹریکٹ پر ملازم ہیں اور ان کا شہید ہو نے والا بیٹا ٢٢ سالہ علی رضا اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری تھا۔ اشفاق حسین کا کہنا تھا کہ وہ عام طور پر چہلم کے لئے دو بسیں کرائے پر لیتے ہیں اور رشتہ داروں دوستوں کے ساتھ مرکزی جلوس میں جاتے ہیں اس بار وہ دونوں بیٹوں کو لے کر گئے تھے انہوں نے بتایا کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ بیہوش ہو گئے کیونکہ ان کی کمر پر چھرے لگے تھے ان کو یاد ہے کہ ان کو جناح اسپتال لے جایا گیا تھا تاہم ان کو ہوش آغا خان اسپتال میں آیا تھا حواس بحال ہوتے ہی انہوں نے پوچھا کہ میرے بیٹے کہاں ہیں تو بتایا کہ وہ گھر چلے گئے ہیں لیکن وہ اس بات پر یقین نہیں کر رہے تھے۔جب وہ ہفتے کو اسپتال سے گھر آئے تو ان کے رشتہ دار ان کو آر سی ڈی گرائوانڈ لے گئے جہاں ان کے بیٹے اور دیگر شہداء کے جنازے رکھے گئے تھے نماز جنازہ میں انہوں نے بھی شرکت کی ْابھی بھی ان کا چھوٹا بیٹا اسپتال میں ہے اس کے سر میں شدید زخم آئے ہیں اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ::وہ امام حسین  کے پیروکار ہیں۔ انہوں نے جو شہادت کا سفر شروع کیا تھا ہم اس پر چلتے رہیں گے۔اشفاق حسین نے بتایا کہ سانحہ عاشورہ میں وہ بیٹوں کے ساتھ مرکزی جلوس میں تھے اور لاشیں اٹھاتے رہے تھے تاہم اس بار بیٹے کی میت کو کندھا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چہلم والے دن جب دھماکہ ہوا تو اس دوران دوسری بس جس میں خواتین زیادہ تھیں ان کو نمائش چورنگی بھجوا دیا گیا کہ وہ مرکزی جلوس میں شریک ہوں اور بعد میں خواتین جناح اسپتال گئی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس رات خیمہ عباس نامی بستی کربلا بنی ہوئی تھی اس رات بستی میں چند گھروں کے ہی افراد موجود تھے۔ باقی اسپتالوں میں تھے یا مردہ خانوں کے چکر لگا رہے تھے۔ اشفاق احمدکا کہنا ہے کہ ان کا ایک بیٹا اور دوسرے بھائی کا ایک ایک بیٹا شہید ہوا ہے۔ ان کا بیٹا سول ڈرافٹسمین کا ڈپلومہ کر کے فیکٹری میں جاب کر رہا تھا دوسرے بھائی محمد حسین کا ٢١ سالہ بیٹا انجم حسین شہید ہوا ہے یہ غیر شادی شدہ تھا اور جاب کر رہا تھا۔ اشفاق حسین کے تیسرے بھائی نے بتایا کہ ان کے ٨ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ان کا بیٹا ٢٢ سال کا شاہد علی جب امام بارگاہ سے بس کے ذریعے نمائش چورنگی جانے لگا تو گھر والوں کو کفن پہن کر دکھانے لگا کہ :                                            دعا کرنا کہ مجھے شہادت مل جائےشام کو پتہ چلا کہ اس نے زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں شہادت پائی۔ رجب علی کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا فیکٹری میں مین آپریٹر تھا اور دیگر دو کزنز کے ساتھ جلوس میں جانے کا کہہ کر گیا تھا کہ بس دھماکے میں شہید ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود بے روزگار ہیں اور بچے کما کر گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ان کے بھائی اشفاق حسین نے حسینی عزاداروں کی تنظیم بنائی تھی اس سے قبل علاقے کے لوگ دیگر علاقوں کے اہل تشیع افراد کے ساتھ مل کر جلوس میں جاتے تھے رجب علی کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد ان کو ہوش نہیں تھا کہ ان کا بیٹا بس کی چھت پر بیٹھا تھا۔ اس سانحے کے بعد ان کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ کی رو رو کر حالت خراب ہو گئی۔ بیٹے کے شہید ہونے کے ساتھ ساتھ رشتے داروں کے بھی کئی بچے شہید اور زخمی ہو گئے ہیں۔حیدر علی نے کہا کہ سانحہ عاشورہ کے بعد بھی پولیس افسران دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار نہیں کر پائے۔ حکومت کو علم ہے کہ چہلم کا مرکزی جلوس دوپہر کو شروع ہوتا ہے اور شہر بھر سے عزادار مختلف پبلک ٹرانسپورٹ یا کرائے کی گاڑیوں میں نمائش چورنگی جاتے ہیں تو شہر بھر کی سڑکوں پر سیکیورٹی ان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہمیں ان حالات کا پہلے سے علم ہوتا تو ہم اس کا بندوبست کر کے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی غفلت تھی کہ شاہراہ فیصل جیسی اہم سڑک پر پولیس یا رینجرز کے اہلکار نظر نہیں آئے جب کہ صبح گیارہ بجے سے عزادار گاڑیوں کے ذریعے ایم اے جناح روڈ آرہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے فقط دعوے ہیں اور کاغذی کاروائی ہے۔جناح اسپتال میں دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے اور یوم عاشورہ کے بعد چہلم کے ان دھماکوں میں ٣٩ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ١٩٦ افراد زخمی ہیں جب کہ تا حال ٨٠ سے زائد زخمی آغا خان اور لیاقت اسپتال میں داخل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی نا اہلی ہے کہ جب عزاداروں کی بسیں گزر رہی تھیں تو ان کو پولیس کی سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ اس وقت زیادہ تر امام بارگاہوں پر بھی سیکیورٹی نہیں تھی اور کچھ پر ایک دو سپاہی تعینات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں ١٣ لاشیں آئی ہیں۔ انہوں نے ایک بچے کی طرف اشارہ کیا جس کی عمر ٦ سال اور نام قمر عباس تھا اور اس کے سر پر چوٹ لگی ہے لیکن اس کو اسپتال سے صرف اس لئے گھر لے آئے کیونکہ علاج کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہ تھا۔ شہید ہونے  والے افراد کے ورثاء اور زخمی افراد کو مالی امداد دینے کا سرکاری اعلان تو ہوتا ہے او